عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہے
ان کے عالم کا زمیں اور آسماں ہی اور ہے
پوچھتا پھرتا ہے کیا ہر ایک سے ان کا سراغ
لامکاں ہیں ان کے رہنے کا مکاں ہی اور ہے
کیا خریدے گا خراب آباد کے بازار میں
بیٹھنے کو شاخِ طوبیٰ پر نہیں کرتیں نگاہ
اس چمن کی بلبلوں کا آشیاں ہی اور ہے
اس کو کیا نِسبت کسی افسانہ و قصے کے ساتھ
عشق کے دفتر کی حاتمؔ داستاں ہی اور ہے
شاہ حاتم
(شیخ ظہور حاتم)
(شیخ ظہور حاتم)
No comments:
Post a Comment