کاملوں کی یہ سخن مدت سوں مجھ کو یاد ہے
جگ میں بے محبوب جینا زندگی برباد ہے
بندگی سوں سرو قد کی اک قدم باہر نہیں
سرو گلشن بیچ کہتے ہیں مگر آزاد ہے
بے مدد زلفوں کی اس کے حسن نے قیدی کیا
خلق کہتی ہے بڑا تھا عاشقی میں کوہکن
تجھ لب شیریں کی حسرت میں ہر اک فرہاد ہے
دل نہاں پھرتا ہے حاتم کا نجف اشرف کے بیچ
گو وطن ظاہر میں اس کا شاہجہاں آباد ہے
اے خرد مند! مبارک ہو تمہیں فرزانگی
ہم ہوں اور صحرا ہو اور وحشت ہو اور دیوانگی
بے مروت، بے وفا، بے دید، اے نا آشنا
آشناؤں سے نہ کر بے رحمی و بے گانگی
ملک دل آباد کیوں کرتا ہے حاتم کا خراب
اے مِرے بستی خوش آتی ہے تجھے دیوانگی
شاہ حاتم
(شیخ ظہور حاتم)
No comments:
Post a Comment