کانٹے ہوں یا پھول اکیلے چننا ہو گا
ہم جیسا محتاط ہمیشہ تنہا ہو گا
فکر و تردد میں ہر دم کیا گھلتے رہنا
ہو گا تو بس وہ ہی جو کچھ ہونا ہو گا
جن میں کھو کر ہم خود کو بھی بھول گئے ہیں
میری طرح ٹوٹے آئینے میں اس نے بھی
ٹکڑے ٹکڑے اپنے آپ کو پایا ہو گا
تیری تو بلقیس نرالی ہی باتیں ہیں
اس دنیا میں کیسے تِرا گزارا ہو گا
بلقیس ظفیرالحسن
No comments:
Post a Comment