Thursday, 20 August 2020

کانٹے ہوں یا پھول اکیلے چننا ہو گا

کانٹے ہوں یا پھول اکیلے چننا ہو گا
ہم جیسا محتاط ہمیشہ تنہا ہو گا
فکر و تردد میں ہر دم کیا گھلتے رہنا
ہو گا تو بس وہ ہی جو کچھ ہونا ہو گا
جن میں کھو کر ہم خود کو بھی بھول گئے ہیں
کیا ہم کو بھی ان آنکھوں نے ڈھونڈا ہو گا
میری طرح ٹوٹے آئینے میں اس نے بھی
ٹکڑے ٹکڑے اپنے آپ کو پایا ہو گا
تیری تو بلقیس نرالی ہی باتیں ہیں
اس دنیا میں کیسے تِرا گزارا ہو گا

بلقیس ظفیرالحسن

No comments:

Post a Comment