Thursday, 20 August 2020

زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں

زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں 
اتنے سادہ بھی نہیں ہم کہ نہ اتنا سمجھیں 
زخم کا اپنے مداوا کسے منظور نہیں 
ہاں مگر کیوں کسی قاتل کو مسیحا سمجھیں 
شعبدہ بازی کسی کی نہ چلے گی ہم پر 
طنز و دشنام کو کہتے ہو لطیفہ سمجھیں
چھوڑیئے پیروں میں کیا لکڑیاں باندھے پھرنا 
اپنے قد سے مِرا قد، شوق سے چھوٹا سمجھیں 
کوئی اچھا ہے، تو اچھا ہی کہیں گے ہم بھی 
لوگ بھی کیا ہیں ذرا دیکھیے کیا کیا سمجھیں 
ہم تو بیگانے سے خود کو بھی ملے ہیں بلقیس
کس توقع پہ کسی شخص کو اپنا سمجھیں

بلقیس ظفیرالحسن

No comments:

Post a Comment