بجلیوں کا کرم ہوا کہ نہیں
پھر کوئی آشیاں جلا کے نہیں
جا رہا تھا جو اپنی دُھن میں مگن
میری آرزو پہ روکا کہ نہیں
اس کے آنے سے آج محفل میں
شور محشر سا اک بپا کہ نہیں
صحن گلشن میں آج کانٹوں سے
دیکھو دامن کوئی بچا کہ نہیں
آؤ دیکھیں دِیے جلا کر ہم
پھر سے چلتی ہے یہ ہوا کہ نہیں
کہہ رہی ہے یہ منتظر آنکھیں
کوئی جلوہ نما ہوا کہ نہیں
سامنے رہے کہ بھی نگاہوں کے
سب کی نظروں سے ہے چُھپا کہ ہیں
ساری دنیا تو مل گئی، لیکن
کوئی مجھ سا تمہیں ملا کہ نہیں
کیا کہو گے اگر کوئی پوچھے
کچھ وفا کا صلہ ملا کہ نہیں
اے اسد! صرف اک اشارے پر
ٹکڑے ٹکڑے قمر ہوا کہ نہیں
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment