جو میری آنکھ سے سیلِ بلا نکلتا ہے
نہ جانے کس کے تعلق میں آ نکلتا ہے
میں ہر دفعہ وہ خد و خال ساتھ لاتا ہوں
مگر قریب سے چہرہ نیا نکلتا ہے
کمال ہے کہ وہاں تم خوشی سے رہتے ہو
جہاں سے اشک بھی روتا ہوا نکلتا ہے
میں روز آنکھ سے کانٹے کشید کرتا ہوں
اے کشتِ خواب! بتا، اور کیا نکلتا ہے
ہر ایک کو جلدی ہے دور جانے کی
شکیل! بھاگ کے آ، قافلہ نکلتا ہے
شکیل پتافی
No comments:
Post a Comment