Tuesday, 12 October 2021

وہ تو لوٹا نہیں گیا جب کا

 وہ تو لوٹا نہیں، گیا جب کا

میرے دل سے نکل گیا کب کا

اس کے بِن دن گزار لیتا ہوں

مسئلہ بن گیا مگر شب کا

اس پہ اتنا یقیں کِیا تھا کہ

وہ گیا تو یقیں گیا سب کا

یہ کڑک چائے دوست لگتی ہے

ذائقہ ہو یہ گویا اس لب کا

آپ نے حال کیا مِرا پوچھا؟

جی رہا ہوں میں شکر ہے رب کا

ہو گیا ہوں تِری طرح میں بھی

اب تعلق ہے سب سے مطلب کا


زیب اوریا

No comments:

Post a Comment