Wednesday, 13 October 2021

گل ہی تو ہے فلک کا ستارا تو ہے نہیں

 گل ہی تو ہے فلک کا ستارہ تو ہے نہیں

کانٹا ہے اس کے ساتھ شرارہ تو ہے نہیں

اب پوچھتا ہے سر پہ تمہارے لہو ہے کیوں

پتھر پڑا ہے کوئی غبارہ تو ہے نہیں

سوچا تھا ایک دن تو گزاریں گے تیرے سنگ

سوچا ہے ہم نے کوئی گزارہ تو ہے نہیں

اچھا بہت ہوا ہے کہ وہ ساتھ لے گیا

دل غیر کا ہے یوں بھی ہمارا تو ہے نہیں

کیا ناز ہم کریں گے رض اس بات پر بھلا

کچھ کچھ تو ہے ہمارا وہ سارا تو ہے نہیں


رضوانہ ملک

No comments:

Post a Comment