گل ہی تو ہے فلک کا ستارہ تو ہے نہیں
کانٹا ہے اس کے ساتھ شرارہ تو ہے نہیں
اب پوچھتا ہے سر پہ تمہارے لہو ہے کیوں
پتھر پڑا ہے کوئی غبارہ تو ہے نہیں
سوچا تھا ایک دن تو گزاریں گے تیرے سنگ
سوچا ہے ہم نے کوئی گزارہ تو ہے نہیں
اچھا بہت ہوا ہے کہ وہ ساتھ لے گیا
دل غیر کا ہے یوں بھی ہمارا تو ہے نہیں
کیا ناز ہم کریں گے رض اس بات پر بھلا
کچھ کچھ تو ہے ہمارا وہ سارا تو ہے نہیں
رضوانہ ملک
No comments:
Post a Comment