دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھے
میری محبتوں کا صِلہ لے گیا مجھے
ویران اس نظر نے کیا مجھ کو اور پھر
تنہائیوں کا دشت بہا لے گیا مجھے
یاں بھی وہی زمین، وہی آسماں ملا
میں سوچتا رہا کہ وہ کیا لے گیا مجھے
اک بار بھی وہ مجھ سے مخاطب نہیں ہوا
اس کے قریب یہ ہی گِلہ لے گیا مجھے
وہ کیا ملا نہ دھیان رہا بادبان کا
گرداب میں سفینہ مِرا لے گیا مجھے
گر وہ نظر شناس نہیں تھا تو کس طرح
دیکھا انہیں انہی کو سنا لے گیا مجھے
کشتی بھنور میں ان کی نگاہوں میں بے بسی
منظر یہی تو اب کے اٹھا لے گیا مجھے
جاوید منظر
No comments:
Post a Comment