Friday, 15 October 2021

اپنی محبتوں کو سلیقہ ملے کوئی

 اپنی محبتوں کو سلیقہ ملے کوئی

اس دردِ لا دوا کو مسیحا ملے کوئی

ہم کو گئی رُتوں کا نوشتہ ملے کوئی

ایسا بھی احتساب کا لمحہ ملے کوئی

برسوں گزر گئے ہیں اسی انتظار میں

میں بھی سنوں جو آپ سا لہجہ ملے کوئی

جھیلیں بہت ہیں راہِ محبت میں سختیاں

یہ سوچ کر کہ ہم کو بھی اپنا ملے کوئی

اک عمر مجھ کو جاگتی آنکھوں نے کیا دیا

سو جاؤں اور خواب سا چہرا ملے کوئی

پہلے سمندروں سے بھنور کو نکالیے

پھر کشتئ جنوں کو کنارا ملے کوئی


جاوید منظر

No comments:

Post a Comment