جیب خالی جو گھر گیا ہو گا
ہچکچا کر ٹھہر گیا ہو گا
دل سے نکلا جو چار دن پہلے
سوچتا ہوں کدھر گیا ہو گا
یہ جو جنگل ہے پہلے صحرا تھا
وہ یہاں سے گزر گیا ہو گا
میرے گِرنے پہ ناچنے والا
میرے اٹھنے سے مر گیا ہو گا
آرزوئے خوشی نہیں باقی
دل دلاسوں سے بھر گیا ہو گا
کس قدر سرد ہے تِرا لہجہ
سننے والا ٹھٹھر گیا ہو گا
شش جہت ہیں علی ہے رستہ ہے
ڈھونڈ لیں گے جدھر گیا ہو گا
علی پیر عالی
No comments:
Post a Comment