Friday, 15 October 2021

جیب خالی جو گھر گیا ہو گا

 جیب خالی جو گھر گیا ہو گا

ہچکچا کر ٹھہر گیا ہو گا

دل سے نکلا جو چار دن پہلے

سوچتا ہوں کدھر گیا ہو گا

یہ جو جنگل ہے پہلے صحرا تھا

وہ یہاں سے گزر گیا ہو گا

میرے گِرنے پہ ناچنے والا

میرے اٹھنے سے مر گیا ہو گا

آرزوئے خوشی نہیں باقی

دل دلاسوں سے بھر گیا ہو گا

کس قدر سرد ہے تِرا لہجہ

سننے والا ٹھٹھر گیا ہو گا

شش جہت ہیں علی ہے رستہ ہے

ڈھونڈ لیں گے جدھر گیا ہو گا


علی پیر عالی

No comments:

Post a Comment