Wednesday, 2 June 2021

جو بات منہ سے نکالیں تو جرم ہے اپنا

 جو بات منہ سے نکالیں تو جرم ہے اپنا

لہو کو راگ بنا لیں تو جرم ہے اپنا

حیا سے نیچی نگاہوں کو بند رکھنا ہے

نظر کبھی جو اٹھا لیں تو جرم ہے اپنا

لبوں پہ مہر ہو، دل لاکھ ٹکڑے ٹکڑے ہو

زباں سے حرف نکالیں تو جرم ہے اپنا

یہ قید و بند یہ پابندیاں زمانے کی

جو اس سے رُخ کو پھرالیں تو جرم ہے اپنا


سحاب قزلباش

No comments:

Post a Comment