ہم تِرے کوچے میں آئیں اتنے سودائی نہیں
اس طرح تُو ہی بتا کیا تیری رسوائی نہیں
اس طرف اک لشکرِ اعدا ہے مصروفِ قتال
اس طرف برہم صفوں میں ایک بھی بھائی نہیں
اب تمہاری یاد میں رونے کی فرصت بھی کہاں
اب میسر ہی ہمیں وہ شامِ تنہائی نہیں
دیکھنا تم بھی کلف اس طرۂ دستار کی
اس کے ہاتھوں کی لکیروں ہی میں پسپائی نہیں
یہ بھی اک دربار داری کی تمنا ہے کلیم
شہریار وقت سے لڑنا تو دانائی نہیں
کلیم احسان بٹ
No comments:
Post a Comment