Tuesday, 7 September 2021

زندگی روز نئے غم میں کما لاتا ہوں

 زندگی روز نئے غم میں کما لاتا ہوں

حادثوں سے تجھے ہر روز بچا لاتا ہوں

آپ بیٹھے رہیں ساحل کو یونہی تھامے ہوئے

میں بھنور سارے سمندر کے چرا لاتا ہوں

اس کو مہکے ہوئے آنگن کی تمنا تھی بہت

روز پودے میں گلابوں کے اٹھا لاتا ہوں

میں تِرے واسطے چوڑی کبھی کنگن لاؤں

اتنے پیسے تو مِری جان کما لاتا ہوں

لوگ ہنستے ہوئے چہروں کے طلبگار رہے

اور چہرے پہ اداسی میں سجا لاتا ہوں

وہ بھی کر سکتا ہے اندازہ مِرے چہرے سے

میں طلب اس سے اگر اپنی چھپا لاتا ہوں

یہ شجر زین نہیں کھولے کا غم مجھ بھی کبھی

کسی مانوس پرندے کو بلا لاتا ہوں


انوار زین

No comments:

Post a Comment