زندگی روز نئے غم میں کما لاتا ہوں
حادثوں سے تجھے ہر روز بچا لاتا ہوں
آپ بیٹھے رہیں ساحل کو یونہی تھامے ہوئے
میں بھنور سارے سمندر کے چرا لاتا ہوں
اس کو مہکے ہوئے آنگن کی تمنا تھی بہت
روز پودے میں گلابوں کے اٹھا لاتا ہوں
میں تِرے واسطے چوڑی کبھی کنگن لاؤں
اتنے پیسے تو مِری جان کما لاتا ہوں
لوگ ہنستے ہوئے چہروں کے طلبگار رہے
اور چہرے پہ اداسی میں سجا لاتا ہوں
وہ بھی کر سکتا ہے اندازہ مِرے چہرے سے
میں طلب اس سے اگر اپنی چھپا لاتا ہوں
یہ شجر زین نہیں کھولے کا غم مجھ بھی کبھی
کسی مانوس پرندے کو بلا لاتا ہوں
انوار زین
No comments:
Post a Comment