Tuesday, 7 September 2021

الزام تیرگی کے سدا اس پہ آئے ہیں

 الزام تیرگی کے سدا اس پہ آئے ہیں

جس نے چراغ اپنے لہو سے جلائے ہیں

شاید اسے ہماری انا کا گماں نہ تھا

ہم تشنگی پٹک کے سمندر سے آئے ہیں

یہ دل کشی ثبوت ہے اے جانِ شاعری

پھولوں نے رنگ تیرے لبوں سے چرائے ہیں

حیراں ہے وہ بھی وسعت پرواز دیکھ کر

جس نے ہماری فکر پر پہرے بٹھائے ہیں

ترکِ تعلقات پہ وہ بھی تھے غمزدہ

اور ہم بھی اپنی ذات سے جنگ ہار آئے ہیں

اب نام کیا بتاؤں کہ غم کس کا ہے صبا

آنکھیں مِری ضرور ہیں آنسو پرائے ہیں


کامران غنی صبا

No comments:

Post a Comment