سر سے ہوائے عالمِ فانی چلی گئی
میں جس سے تھا سبک وہ گرانی چلی گئی
جب دل میں حوصلے تھے امنگوں میں جان تھی
وہ عمر کٹ گئی، وہ جوانی چلی گئی
ہلکی سی ٹیس بھی ہے طبیعت کو ناگوار
وہ آرزوئے دردِ نہانی چلی گئی
پھرتے تھے جس کو روز لگائے جگر سے ہم
وہ نقش مٹ گئے، وہ نشانی چلی گئی
جب سے منور اہلِ سخن تنگ ہیں ہوئے
وہ وسعتِ جہانِ معانی چلی گئی
منور لکھنوی
منشی بشیشور پرشاد
No comments:
Post a Comment