بڑھاتے سوزش غم چارہ ساز کیا کرتے
جنون عشق میں ہم ساز باز کیا کرتے
ہجرکی شب تو مہکتے ہیں دل کے ویرانے
نظر کے پھول، لبوں کا گداز کیا کرتے
محبتوں میں بدن کی طلب اضافی ہے
جو سوز غم نہ جگائے وہ ساز کیا کرتے
زمیں پہ سارے شکاری شکار ہوتے ہیں
زمیں پہ گھر جو بناتے تو باز کیا کرتے
جنہوں نے عشق حقیقی کہ رنگ دیکھ لیے
تو اہلِ علم وہ عشق مجاز کیا کرتے
متاعِ زیست لٹا کہ جو ہنس پڑے اس کا
یہ زندگی کہ نشیب و فراز کیا کرتے
تیری بقا کے لیے ہار بھی ضروری تھی
تو جیت کر یہ تِرے جان باز کیا کرتے
تیرے بغیر تو جینا عذاب لگتا ہے
بتا کہ مانگ کے عمرِ دراز کیا کرتے
وہی تو زین امیں کر گیا ہے رازوں کا
کسی سے پھر کوئی راز و نیاز کیا کرتے
انوار زین
No comments:
Post a Comment