Saturday, 9 January 2021

سمجھ میں جو نہیں آتے دوانے مل ہی جاتے ہیں

 سمجھ میں جو نہیں آتے دِوانے مل ہی جاتے ہیں 

نئے گلشن میں کچھ پودے پرانے مل ہی جاتے ہیں 

ضروری تو نہیں ہم قیس کے رستے پہ چل نکلیں

دلوں کی بھیڑ میں اجڑے ٹھکانے مل ہی جاتے ہیں 

تعجب تو نہیں تیرے بدلنے کا ذرا ہم کو 

صراحی جو بھرے دل کی  بہانے مل ہی جاتے ہیں 

زمانے پر نظر رکھو کسی کی ذات مت دیکھو

حققیت کچھ نہ ہو لیکن فسانے مل ہی جاتے ہیں 

قطارِ دشمناں میں ڈھونڈنا اپنوں کو مشکل ہے 

لباسِ دوستی میں یہ خزانے مل ہی جاتے ہیں 

مسلسل رابط رکھو اگر منزل کے رہبر سے 

ترستی آنکھ کو سپنے سہانے مل ہی جاتے ہیں 

پرائی محفلوں میں بھی کہیں تھے دل جلے ساجد 

تڑپ سچی ہو گر اپنی، دِوانے مل ہی جاتے ہیں


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment