غموں کے ہجر سے پہلے کئی گرداب آتے ہیں
بہت آنکھوں میں اس کے بعد پھر سیلاب آتے ہیں
نظر کب کب اٹھانی ہے نظر کیسے جھکانی ہے
محبت کرنے والوں کو ہی یہ آداب آتے ہیں
کوئی جب ہاتھ دھیرے سے چھڑا کے گم ہی ہو جائے
کتاپِ زیست میں پھر تلخیوں کے باب آتے ہیں
تمہاری سادگی اچھی لگی تو مر مٹے ہم بھی
وگرنہ ہم سے ملنے بھی کئی مہتاب آتے ہیں
محبت کی یہ ناؤ جب بھنور میں ڈوب جاتی ہے
جزیرے دل کے پھر اپنے یہ زیرِ آب آتے ہیں
میسر تشنگی کو اس کہیں قطرہ نہیں ہوتا
کہیں خود چل کے پیاسوں کی طرف تالاب آتے ہیں
یقیں جب زینؔ ہو جاتا ہے پھر ملنا نہیں ہو گا
دمِ رخصت ہمیں ملنے تبھی احباب آتے ہیں
انوار زین
No comments:
Post a Comment