Sunday, 10 January 2021

غموں کے ہجر سے پہلے کئی گرداب آتے ہیں

 غموں کے ہجر سے پہلے کئی گرداب آتے ہیں

بہت آنکھوں میں اس کے بعد پھر سیلاب آتے ہیں

نظر کب کب اٹھانی ہے نظر کیسے جھکانی ہے

محبت کرنے والوں کو ہی یہ آداب آتے ہیں

کوئی جب ہاتھ دھیرے سے چھڑا کے گم ہی ہو جائے

کتاپِ زیست میں پھر تلخیوں کے باب آتے ہیں

تمہاری سادگی اچھی لگی تو مر مٹے ہم بھی

وگرنہ ہم سے ملنے بھی کئی مہتاب آتے ہیں

محبت کی یہ ناؤ جب بھنور میں ڈوب جاتی ہے

جزیرے دل کے پھر اپنے یہ زیرِ آب آتے ہیں

میسر تشنگی کو اس کہیں قطرہ نہیں ہوتا

کہیں خود چل کے پیاسوں کی طرف تالاب آتے ہیں

یقیں جب زینؔ ہو جاتا ہے پھر ملنا نہیں ہو گا

دمِ رخصت ہمیں ملنے تبھی احباب آتے ہیں


انوار زین

No comments:

Post a Comment