Wednesday, 21 July 2021

زمانے کے دربار میں دست بستہ ہوا ہے

 زمانے کے دربار میں دست بستہ ہوا ہے

یہ دل اس پہ مائل مگر رفتہ رفتہ ہوا ہے

اچانک ہی ہتھیار والے نہیں سخت جاں نے

جگر وقت کے ساتھ خستہ شکستہ ہوا ہے

کہیں اندر اندر سلگتی تھی چنگاری کوئی

مگر حادثہ آخر کار شام گزشتہ ہوا ہے

کئی بار جلاد نے کھینچ دیکھا ہے اس کو

مگر منجمد دار کا سرد تختہ ہوا ہے

خبردار رہنے لگا شہریار اس سے یاسر

قلم میرے ہاتھوں میں خنجر کا دستہ ہوا ہے


خالد اقبال یاسر

No comments:

Post a Comment