Sunday, 13 December 2020

رنجشوں میں بحث میں تکرار میں ضائع نہ کر

 رنجشوں میں، بحث میں، تکرار میں ضائع نہ کر

زندگی کو اس طرح بے کار میں ضائع نہ کر

جاں شکستہ ہے تو کیا یہ دل شکستہ تو نہیں

آخری حملے کو پہلے وار میں ضائع نہ کر

ایک خلعت کے لیے مت بیچ اس میراث کو

دولت شعر و سخن دربار میں ضائع نہ کر

اس جگہ کوئی نہیں ہے دل کی باتوں کا امیں

دیکھ یہ جنسِ گراں بازار میں ضائع نہ کر

جاگنے والے ہیں تھوڑی دیر میں بستی کے لوگ

وقت تھوڑا ہے، اسے انکار میں ضائع نہ کر

ہے یہی ساعت جو توڑے گی فصیل جبر کو

لمحۂ موجود کو افکار میں ضائع نہ کر

صفحۂ قرطاس پر ہیں جا بجا چھینٹے ظہیر

اس طرح اپنا لہو اشعار میں ضائع نہ کر


ظہیر احمد

No comments:

Post a Comment