دل کو ٹٹولئے، کوئی ارمان ڈھونڈئیے
پھر سے کسی نظرمیں پرستان ڈھونڈئیے
یونہی گزر نہ جائے یہ موسم شباب کا
آرائشِ حیات کا سامان ڈھونڈئیے
کب تک گلاب ہاتھ میں لیکر پھریں گے آپ
موسم بہت شدید ہے گلدان ڈھونڈئیے
دیوار ہی گری ہے، یہ بازو نہیں گرے
ملبہ اٹھا کے سائے کا امکان ڈھونڈئیے
اٹھتی ہے اک صدا سی مشینوں کے شور میں
ہو گا یہیں کہیں کوئی انسان، ڈھونڈئیے
ملیے کبھی اکیلے میں خود اپنے آپ سے
سارے نقاب اتار کے پہچان ڈھونڈئیے
ظہیر احمد
No comments:
Post a Comment