ملول خاطر و آزردہ دل، کبیدہ بدن
شبِ وصال میں روتے ہیں غم گزیدہ بدن
علاجِ زخمِ تمنا کو چاہیۓ مرہم
قلم کی نوک سے سلتے نہیں دریدہ بدن
اٹھائیں شاہ پہ کیسے ہم انگلیاں لوگو
جلوسِ شاہ میں عریاں ہیں برگزیدہ بدن
شرف یہ ملتا نہیں ہر کشیدہ قامت کو
کہ اترے دار کے تختے سے سربریدہ بدن
یہ انکساری نہیں بوجھ ہے کوئی سرپر
وہ میرے سامنے آتا تھا کب خمیدہ بدن
گراں ہے ریشم و کمخواب سے ابھی مرہم
سو خوش لباس ہوئے ہیں سبھی دریدہ بدن
ہم ایسے دنیا طلب تھے کہ بیچ کر دل کو
دکانِ سہل پرستی سے جا خریدا بدن
مِرے سخن کو وہ دیتا ہے امتحاں کیا کیا
وہ جانِ مصرع، غزل قامت و قصیدہ بدن
ظہیر احمد
No comments:
Post a Comment