مٹی کا قرض
اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض
میرے لیے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کا قرض
کیوں نہ دھرتی سیوا کر کے خون پسینہ بوئیں
ممکن ہے کچھ کم ہو جائے اس مٹی کا قرض
اک مُدت سے دیکھ رہی ہیں میری بھیگی آنکھیں
بڑھ جاتا ہے جب مینہ برسے اس مٹی کا قرض
پِیا مِلن کو مانگ رہی ہے دھرتی ہار سنگھار
کم کر دیں گے سبز دوشالے اس مٹی کا قرض
میرے لیے جب بارِ امانت ہے شانوں پر سر
سر سے میرے کیسے اترے اس مٹی کا قرض
ارضِ وطن سے پوچھو ہم سب ہیں کب سے مقروض
پنجند نے تو اب مانگا ہے اس مٹی کا قرض
جہلِ خِرد کے اندھیاروں میں گھٹ تو سکتا ہے
پلکوں پہ جل دِیپ سجا کے اس مٹی کا قرض
قوم کو گِروی رکھنے والو، خوب چُکایا ہے
مٹی کا کشکول بنا کے اس مٹی کا قرض
روز و شب مقروض ہیں میرے سانسیں تک مقروض
مجھ کو تو ورثے میں ملا ہے اس مٹی کا قرض
جیتے جی ہے اس مٹی کا قرض چُکانا مُشکل
بڑھ جائے گا قبر میں جا کے اس مٹی کا قرض
فخرالدین بلے
No comments:
Post a Comment