Friday, 8 October 2021

اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض

مٹی کا قرض


 اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض

میرے لیے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کا قرض

کیوں نہ دھرتی سیوا کر کے خون پسینہ بوئیں

ممکن ہے کچھ کم ہو جائے اس مٹی کا قرض

اک مُدت سے دیکھ رہی ہیں میری بھیگی آنکھیں

بڑھ جاتا ہے جب مینہ برسے اس مٹی کا قرض

پِیا مِلن کو مانگ رہی ہے دھرتی ہار سنگھار

کم کر دیں گے سبز دوشالے اس مٹی کا قرض

میرے لیے جب بارِ امانت ہے شانوں پر سر

سر سے میرے کیسے اترے اس مٹی کا قرض

ارضِ وطن سے پوچھو ہم سب ہیں کب سے مقروض

پنجند نے تو اب مانگا ہے اس مٹی کا قرض

جہلِ خِرد کے اندھیاروں میں گھٹ تو سکتا ہے 

پلکوں پہ جل دِیپ سجا کے اس مٹی کا قرض

قوم کو گِروی رکھنے والو، خوب چُکایا ہے

مٹی کا کشکول بنا کے اس مٹی کا قرض

روز و شب مقروض ہیں میرے سانسیں تک مقروض

مجھ کو تو ورثے میں ملا ہے اس مٹی کا قرض

جیتے جی ہے اس مٹی کا قرض چُکانا مُشکل 

بڑھ جائے گا قبر میں جا کے اس مٹی کا قرض


فخرالدین بلے

No comments:

Post a Comment