Friday, 8 October 2021

اٹھو اور اپنے حقوق چھینو

 درد رسنے لگ گیا

جس کی دیوار سے

لفظ نشتر بن گئے

بے خبر نے دیکھیۓ

کیا حقارت دان کی

ہوں سراپا مطلبی

اور

اچھوت لوگو

اٹھو اور اپنے حقوق چھینو

اچھوت لوگو

غلام ابن غلام بن کر 

جو چند سانسیں ملی ہیں تم کو 

گنوا نہ دینا


ماجد جہانگیر مرزا

No comments:

Post a Comment