Friday, 8 October 2021

اوج پر جب کمال تھا میرا

 اوج پر جب کمال تھا میرا

وہی وقتِ زوال تھا میرا

تیری تصویر ہی دِِکھاتا تھا

آئینہ بے مثال تھا میرا

سوچتی ہوں عجیب لگتا ہے

بن تِرے لمحہ سال تھا میرا

دل لگی بھی لگی تھی یوں دل کو

رقص میں بال بال تھا میرا

میں تجھے کیسے بھول پاؤں گی

ایک مشکل سوال تھا میرا

رہتی ہوں میں تیرے خیالوں میں

یہ بھی شاید خیال تھا میرا

تیری راہوں میں پھر بھی چلتی رہی

آنکھ نم، دل نڈھال تھا میرا

کر دیا حادثات نے پتھر

ورنہ چلنا محال تھا میرا

آنکھ ٹھہری ہے اک ستارے پر

چاہتی تو ہلال تھا میرا

دیکھتا جو بھی دیکھتا جاتا

میں غزل، وہ غزال تھا میرا


رقیہ غزل

No comments:

Post a Comment