یوں تو جو مل جائے، ہو جاتے ہیں اس منظر کے لوگ
آرزوئے عہدِ نو رکھتے ہیں دنیا بھر کے لوگ
کون دیوانہ ہے ٹکرائے جو سر دیوار سے
آئینے کے گھر ہیں اسی بستی میں اور پتھر کے لوگ
یہ بھی اک ترتیبِ سنگ و خشت و آہن ہی تو ہے
جانے کیوں گرویدہ ہو جاتے ہیں بام و در کے لوگ
ہاتھ میں تسبیح تھامے، سر پر عمامہ لیے
محفل جاناں میں آ بیٹھے ہیں کچھ باہر کے لوگ
قریۂ غم، شہرِ فرقت، کوچۂ خواب و خیال
بستیاں آباد کر جاتے ہیں کتنی مر کے لوگ
بے تکلف یوں چلی آتی ہے دل میں تیری یاد
گھر میں آ جاتے ہیں جیسے بن پکارے گھر کے لوگ
علی مینائی
No comments:
Post a Comment