داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں
گل کھلائے ہوئے تمہارے ہیں
ربط ہے حسن و عشق میں باہم
ایک دریا کے دو کنارے ہیں
کوئی جدت نہیں حسینوں میں
تیری باتیں ہیں کس قدر شیریں
تیرے لب کیسے پیارے پیارے ہیں
جس طرح ہم نے راتیں کاٹی ہیں
اس طرح ہم نے دن گزارے ہیں
ایم ڈی تاثیر
محمد دین تاثیر
No comments:
Post a Comment