Tuesday, 6 December 2016

داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں

داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں
گل کھلائے ہوئے تمہارے ہیں
ربط ہے حسن و عشق میں باہم
ایک دریا کے دو کنارے ہیں
کوئی جدت نہیں حسینوں میں
سب نے نقشے ترے اتارے ہیں
تیری باتیں ہیں کس قدر شیریں
تیرے لب کیسے پیارے پیارے ہیں
جس طرح ہم نے راتیں کاٹی ہیں
اس طرح ہم نے دن گزارے ہیں

ایم ڈی تاثیر
محمد دین تاثیر

No comments:

Post a Comment