دیکھ کر یہ چلن تمہارے ہم
خاک میں مل گئے بیچارے ہم
جن ہیں یا دیو بھوت ہیں کیا ہیں
نہیں لگتے جو تم کو پیارے ہم
بیقراری سے دل کی شب کو ہائے
در پہ اس کے بہت پکارے ہم
یہ جو گلزار سا ہے رخ تیرا
لیں گے اس باغ کو اجارے ہم
داغ اک تحفہ لے کے ہستی میں
سُوئے ملک عدم سدھارے ہم
رات محفل میں کان میں اس کے
کہہ کے کچھ ہو گئے کنارے ہم
منتظر دل نے دکھ دیا یہ کہ بس
مر گئے درد و غم کے مارے ہم
منتظر لکھنوی
No comments:
Post a Comment