Monday, 14 December 2020

خاک میں مل گئے بیچارے ہم

دیکھ کر یہ چلن تمہارے ہم

خاک میں مل گئے بیچارے ہم

جن ہیں یا دیو بھوت ہیں کیا ہیں

نہیں لگتے جو تم کو پیارے ہم

بیقراری سے دل کی شب کو ہائے

در پہ اس کے بہت پکارے ہم

یہ جو گلزار سا ہے رخ تیرا

لیں گے اس باغ کو اجارے ہم

داغ اک تحفہ لے کے ہستی میں

سُوئے ملک عدم سدھارے ہم

رات محفل میں کان میں اس کے

کہہ کے کچھ ہو گئے کنارے ہم

منتظر دل نے دکھ دیا یہ کہ بس

مر گئے درد و غم کے مارے ہم


منتظر لکھنوی

No comments:

Post a Comment