Thursday, 20 January 2022

ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا

 ہاں مجھے گوارا ہے، عشق کا سفر تنہا

اس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہا

زیست ہے مگر سُونی، عشق ہے مگر تنہا

چشم سر بسر ویراں قلب سر بسر تنہا

وہ جمال کی تابش جیسے نور کی بارش

حسن یار کی یورش اور مِری نظر تنہا

دل کی ایک اک حسرت چھوڑ کر ہوئی رخصت

ہائے رے یہ سناٹام، ہائے رے یہ گھر تنہا

کیا قیامتیں یارو حسن کے جلو میں تھیں

ہم نے دور تک دیکھا، عشق تھا مگر تنہا

ٹھوکریں ہی کھاؤں گا گر کے اٹھ نہ پاؤں گا

منزل محبت میں،۔ میں چلا اگر تنہا

دامن محبت پر دل کا خون بھی ہو گا

تیرا غم منائے گی کیسے چشم تر تنہا


احساس مرادآبادی

No comments:

Post a Comment