Thursday, 20 January 2022

چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں

 چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں

اور کسی دن تو پریشان بھی ہو جاتا ہوں

سیدھا رستہ ہوں مگر مجھ سے گزرنا مشکل

گمرہوں کے لیے آسان بھی ہو جاتا ہوں

فائدہ مجھ کو شرافت کا بھی مل جاتا ہے

پر کبھی باعث نقصان بھی ہو جاتا ہوں

اپنے ہی ذکر کو سنتا ہوں حریفوں کی طرح

اپنے ہی نام سے انجان بھی ہو جاتا ہوں

رونقیں شہر بسا لیتی ہیں مجھ میں اپنا

آن کی آن میں سنسان بھی ہو جاتا ہوں

زندگی ہے تو بدل لیتی ہے کروٹ شہپر

آدمی ہوں کبھی حیوان بھی ہو جاتا ہوں


شہپر رسول

No comments:

Post a Comment