Thursday, 13 May 2021

بے سبب عشق کب اداس رہا

 بے سبب عشق کب اداس رہا

وہ تمہارا ادا شناس رہا

زندگی بھر خودی کا پاس رہا

عشق کب محوِ التماس رہا

ہر فسانہ جو کہہ چکی دنیا

میرے غم کا ہی اقتباس رہا

جامہ زیبی بقدرِ ذوق رہی

عشق ہر شخص کا لباس رہا

تم سے جب قربتیں میسر تھیں

دل تو اس وقت بھی اداس رہا

غم کا پیمانہ خود بتا دے گا

کون کتنا تمہارے پاس رہا

ان کو مجھ سے ہزار دوری تھی

میں تو احساس ان کے پاس رہا


احساس مرادآبادی

No comments:

Post a Comment