Thursday, 13 May 2021

ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی

 ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی

طے جو کرنا ہے سفر آگے بھی

یوں ہی شمشیروں کو للکارے گا

رہ گیا دھڑ پہ جو سر آگے بھی

دور تک نام نہیں سائے کا

ہیں تو پیچھے بھی شجر آگے بھی

کیوں ستمگر کو ستم گر بولو

زندہ رہنا ہے اگر آگے بھی

روکتا کون سفر کس دل سے

تھی مرادوں کی ڈگر آگے بھی

دائرے ٹوٹ نہ پائے ورنہ

جا تو سکتی تھی نظر آگے بھی

کیا خوشامد سے جھٹکنا دامن

کام دے گا یہ ہنر آگے بھی

سو جنم لے کے جہاں پہونچا ہوں

مجھ کو جانا ہے مگر آگے بھی

شعر کے روپ میں دیتے رہنا

احترام اپنی خبر آگے بھی


احترام اسلام

No comments:

Post a Comment