Thursday, 13 May 2021

اکثر دکھائی دے جاتے ہیں کہیں نہ کہیں خوشی کے آنسو

 اکثر دکھائی دے جاتے ہیں

کہیں نہ کہیں

خوشی کے آنسو

لیکن

کیا کبھی کسی نے

غم کی ہنسی بھی سنی ہے

میں نے سنی ہے

اکثر سنتی ہوں

بے ساختہ کھلکھلاتے ہوئے

سنا ہے خود کو میں نے

کتنی ہی بار

ہر بار

ہنسی میں اڑ جاتا ہے

سارا غم

کچھ پل کے لیے

بس

کچھ پل کے لیے


دپتی مشرا

No comments:

Post a Comment