Thursday, 13 May 2021

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا

لبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھنا

تمناؤں کے اندھے شہر میں جب مانگنے نکلو

تو چادر صبر کی صدیوں پرانی پشت پر رکھنا

میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں

مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا

تجھے بھی اس کہانی میں کہیں کھونا ہے شہزادے

خدا حافظ یہ مہر خاندانی پشت پر رکھنا

ہمیشہ وقت کا دریا اسے رفتار بخشے گا

جسے آتا ہو دریا کی روانی پشت پر رکھنا


احتشام صدیقی

No comments:

Post a Comment