Thursday, 13 May 2021

خدا بھی طرفدار نکلا تمہارا

 خدا بھی طرف دار نکلا تمہارا

یہ جھگڑا چکا اب ہمارا تمہارا

بتو شوق دیدار سے سر نہ چڑھنا

نظارا کسی کا تماشا تمہارا

بڑے با حیا اور پردہ نشیں ہو

ہے ہر کو و برزن میں چرچا تمہارا

علو میں ہی جھوٹا ہوں پیماں شکن ہوں

نہیں اب تو کچھ مجھ سے شکوہ تمہارا

دل آئے نہ کیوں کیوں نہ ایمان جائے

یہ صورت تمہاری یہ غمزہ تمہارا

دل و جان کیفیؔ ہے قربان تم پر

نہیں اس سے انکار زیبا تمہارا


کیفی دہلوی

دتا تریہ کیفی

No comments:

Post a Comment