سو تک گنتی، بیس پہاڑے کام آئے
ساری دولت میں یہ سِکے کام آئے
اتنے چہرے جیب میں رکھے پھِرتے تھے
وقت پڑے پر کتنے چہرے کام آئے
تیری عیاشی تھی میری مجبوری
تُو نے کپڑے پھینکے میرے کام آئے
جن کو چھت پر ڈال دیا تھا گرمی میں
سردی میں وہ دھوپ کے ٹکڑے کام آئے
آنکھوں نے ہی اس کو پالا پوسا ہے
شرم کے کب یہ چلمن پردے کام آئے
چھالوں کے پانی سے آخر پیاس بُجھی
جنگل میں جنگل کے تحفے کام آئے
احتشام صدیقی
No comments:
Post a Comment