بسان نگہتِ گل ساتھ ہم صبا کے چلے
ہے آشنا وہ جو کہنے پہ آشنا کے چلے
فضائے دیر میں ہم مثلِ برق آ کے چلے
تڑپ کے کاٹ دیا وقت مسکرا کے چلے
روا روی میں ہیں ہم سن لو قافلے والو
نمودِ رعشۂ "پیری" ہوا،۔ "اجل" آئی
چراغِ صبح تھے گویا کہ جھلملا کے چلے
سنا ہے برق کو اک لاگ ہے بلندی سے
بشر نہ حد سے زیادہ بھی سر اٹھا کے چلے
خدا کے واسطے اے صبر و تاب و ہوش و خرد
کہاں چلے کہ مجھے بیڑیاں پہنا کے چلے
ہم اب تو مے کدہ سے اٹھ کے جا نہیں سکتے
چلے جو چار قدم بھی تو "لڑکھڑا" کے چلے
جب اپنی آنکھ ہوئی بند، سب کی آنکھ کھلی
جو گہری نیند میں تھے ان کو ہم جگا کے چلے
حیدر نظم طباطبائی
No comments:
Post a Comment