اپنے گھر کو بھی ذرا آگ لگا کر دیکھو
یہ تماشا کبھی اوروں کو دکھا کر دیکھ
بزم میں اور بھی ہیں دیکھنے والے مجھ کو
بیٹھنے والو کی نظروں سے بچا کر دیکھو
لذتِ وصل سے بھی بڑھ کے مزہ آئے گا
ہجر کی رات شبِ وصل میں ڈھل جائے گی
پچھلی باتوں کو ذرا دھیان میں لا کر دیکھو
دل کے دریا میں اٹھی موجِ نشانِ منزل
سوچ کی ناؤ کو دریا میں بہا کر دیکھو
شاد تسکین کی صورت بھی نکل آۓ گی
مختصر بات کا "افسانہ" بنا کر دیکھو
شاد امرتسری
No comments:
Post a Comment