Friday, 7 August 2020

اپنے گھر کو بھی ذرا آگ لگا کر دیکھو

اپنے گھر کو بھی ذرا آگ لگا کر دیکھو 
یہ تماشا کبھی اوروں کو دکھا کر دیکھ
بزم میں اور بھی ہیں دیکھنے والے مجھ  کو
بیٹھنے والو کی نظروں سے بچا کر دیکھو
لذتِ وصل سے بھی بڑھ کے مزہ آئے گا 
اپنی تنہائی سے دل اپنا لگا کر دیکھو 
ہجر کی رات شبِ وصل میں ڈھل جائے گی
پچھلی باتوں کو ذرا دھیان میں لا کر دیکھو
دل کے دریا میں اٹھی موجِ نشانِ منزل
سوچ کی ناؤ کو دریا میں بہا کر دیکھو
شاد تسکین کی صورت بھی نکل آۓ گی
مختصر بات کا "افسانہ" بنا کر دیکھو 

شاد امرتسری

No comments:

Post a Comment