حال دل سب سے چھپانے میں مزہ آتا ہے
آپ پوچھیں تو بتانے میں مزہ آتا ہے
روشنی بوجھ سی لگتی ہے شب ہجراں میں
ہاں مگر دل کو جلانے میں مزہ آتا ہے
جسکے کچھ تار الجھ جاتے ہیں دل کی صورت
جاں بچانے کا "تصور" بھی برا لگتا ہے
عشق میں جان گنوانے میں مزہ آتا ہے
یاد کر کر کے وہ گرمی کی بھری دوپہریں
پہلی بارش میں نہانے میں مزہ آتا ہے
نواز دیوبندی
No comments:
Post a Comment