Friday, 7 August 2020

وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے

وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے
تعلقات تو اب بھی ہیں رابطہ کم ہے
تم اس خاموش طبیعت پہ طنز مت کرنا
وہ سوچتا ہے "بہت" اور بولتا کم ہے
بلا سبب ہی تم تو "اداس" رہتے ہو
تمہارے گھر سے تو مسجد کا فاصلہ کم ہے
فضول تیز ہواؤں کو "دوش" دیتا ہے
اسے ہی چراغ جلانے کا حوصلہ کم ہے
میں اپنے بچوں کی خاطر ہی جان دے دیتا
مگر غریب کی "جان" معاوضہ کم ہے

نواز دیوبندی

No comments:

Post a Comment