وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے
تعلقات تو اب بھی ہیں رابطہ کم ہے
تم اس خاموش طبیعت پہ طنز مت کرنا
وہ سوچتا ہے "بہت" اور بولتا کم ہے
بلا سبب ہی تم تو "اداس" رہتے ہو
فضول تیز ہواؤں کو "دوش" دیتا ہے
اسے ہی چراغ جلانے کا حوصلہ کم ہے
میں اپنے بچوں کی خاطر ہی جان دے دیتا
مگر غریب کی "جان" معاوضہ کم ہے
نواز دیوبندی
No comments:
Post a Comment