Friday, 7 August 2020

ڈوبے گا اگر یہ سورج بھی تو چاند ستارے نکلیں گے

گھبرائیں حوادث سے کیا ہم جینے کے سہارے نکلیں گے
ڈوبے گا اگر یہ سورج بھی تو چاند ستارے نکلیں گے
اندازِ زمانہ کہتا ہے پھر موج ہوا رخ بدلے گی
انگاروں سے گلشن پھوٹے گا شبنم سے شرارے نکلیں گے
فردوس نظر کے دیوانے تاریک فضا سے کیا ڈرنا
تُو شمع نظر کو تیز تو کر ظلمت سے نظارے نکلیں گے
انجام کشاکش ہوگا کچھ دیکھیں تو تماشا دیوانے
یا خاک اڑے گی گردوں پر یا فرش پہ تارے نکلیں گے
مسرورؔ کریں اہل ساحل کچھ فکر نہ ہمت والوں کی
ڈوبیں گے سفینے جتنے بھی اک دن وہ کنارے نکلیں گے

علیم مسرور

No comments:

Post a Comment