اتنا ہی شکر نعمت و راحت میں چاہئے
جتنا کہ صبر رنج و مصیبت میں چاہئے
جتنی شراب محفلِ عشرت میں چاہئے
اتنا ہی خونِ دل غمِ فرقت میں چاہئے
مے کش ہو رندِ مست ہو شاہد پرست ہو
پہلو سے دل نکال کے ہاتھوں پہ اپنے رکھ
ایسا حضور قلب عبادت میں چاہئے
خدمت کا عمر بھر کی صِلہ اے متاعِ دہر
کیا دو گز کفن مجھے خلعت میں چاہئے
حسرت سہی امید سہی آرزو سہی
مونس کوئی تو عالمِ وحشت میں چاہئے
اہلِ وطن نہیں سہی، یادِ وطن سہی
کوئی تو ساتھ وادئ غربت میں چاہئے
آنکھوں میں پڑ کے کہتی ہے یہ خاکِ رفتگاں
سرمہ ضرور دیدۂ عبرت میں چاہئے
اپنی ہی جب نظر میں سماتے نہیں ہیں ہم
اب کون سی ہے بات جو ذلت میں چاہئے
احباب پر نہ لاش اٹھانے کا بار ہو
میری لحد بھی گوشۂ عزلت میں چاہئے
طعنے دئیے تو گالیاں دینے میں شرم کیا
کچھ تو بھلا نمک بھی جراحت میں چاہئے
یوست اگرچہ دل ہے میں دے دوں کا مفت ہی
تکرار اور آپ سے قیمت میں چاہئے
منزل جو ہے پہاڑ تو اے نظم غم نہ کر
تیزی قدم کی قطعِ مسافت میں چاہئے
حیدر نظم طباطبائی
No comments:
Post a Comment