Friday, 11 September 2020

انگڑائیوں میں پھیلتے ہیں بار بار ہاتھ

انگڑائیوں میں پھیلتے ہیں بار بار ہاتھ
شیشہ کی سمت بڑھتے ہیں بے اختیار ہاتھ 
ڈوبے ہیں ترک سعی سے افسوس تو یہ ہے 
ساحل تھا ہاتھ بھر پہ لگاتے جو چار ہاتھ 
آتی ہے جب نسیم تو کہتی ہے موج بحر 
یوں آبرو سمیٹ اگر ہوں ہزار ہاتھ 
درپئے ہیں میرے قتل کے احباب اور میں 
خوش ہوں کہ میرے خون میں رنگتے ہیں یار ہاتھ 
دامن کشاں چلی ہے بدن سے نکل کے روح 
کھنچتے ہیں پھیلتے ہیں جو یوں بار بار ہاتھ 
مٹتا نہیں نوشتۂ قسمت کسی طرح 
پتھر سے سر کو پھوڑ کہ زانو پہ مار ہاتھ 
ساقی سنبھالنا کہ ہے لبریز جام مے 
لغزش ہے میرے پاؤں میں اور رعشہ دار ہاتھ 
مطرب سے پوچھ مسئلہ جبر و اختیار 
کیا تال سم پہ اٹھتے ہیں بے اختیار ہاتھ 
مٹتا نہیں نوشتۂ قسمت کسی طرح
پتھر سے سر کو پھوڑ کہ زانو پہ مار ہاتھ

حیدر نظم طباطبائی

No comments:

Post a Comment