اک راز غم دل جب خود رہ نہ سکا دل تک
ہونے دو یہ رسوائی تم تک ہو کہ محفل تک
افسانہ محبت کا پورا ہو تو کیسے ہو؟؟
کچھ ہے دل قاتل تک کچھ ہے دل بسمل تک
بس اک نظرجس کی آتش زن محفل ہے
یہ راہ محبت ہے سب اس میں برابر ہیں
بھٹکے ہوئے راہی سے خضر رہِ منزل تک
ہے عزم جواں سب کچھ طوفان حوادث میں
ساحل کا بھروسہ کیا، یہ جاتا ہے ساحل تک
علیم مسرور
No comments:
Post a Comment