Friday, 11 September 2020

گردش چشم ہے پیمانے میں

گردش چشم ہے پیمانے میں
تم گئے ہو کبھی مے خانے میں
ایک جلوہ سا نظر آتا ہے
کوئی تو ہے مِرے غم خانے میں
یوں ہے سینے میں دل پر حسرت
قبر جیسے کسی ویرانے میں
دیکھ اے دل نہ مجھے چھوڑ کے جا
فرق  آ جائے گا یارانے میں
جل کے عاشق ہوئے معشوق صفت
شمع کا سوز ہے پروانے میں
جان اس بت میں لگی رہتی ہے
اپنے کو پاتے ہیں بے گانے میں
سنگِ در تک تِرے جب سر پہنچا
 لاکھ سجدے کئے شکرانے میں
نہیں معلوم گیا کس جانب؟ 
دل لگا ہے تِرے دیوانے میں
قصۂ حضرت یوسف نہ سنو
طرفہ عبرت ہے اس افسانے میں
اس طرح دل میں ہے آہوں کا دھواں
جیسے خاک اڑتی ہے ویرانے میں
برکت کس کے قدم کی ہے رشید 
کہ اذاں ہوتی ہے بت خانے میں

رشید لکھنوی

No comments:

Post a Comment