گردش چشم ہے پیمانے میں
تم گئے ہو کبھی مے خانے میں
ایک جلوہ سا نظر آتا ہے
کوئی تو ہے مِرے غم خانے میں
یوں ہے سینے میں دل پر حسرت
دیکھ اے دل نہ مجھے چھوڑ کے جا
فرق آ جائے گا یارانے میں
جل کے عاشق ہوئے معشوق صفت
شمع کا سوز ہے پروانے میں
جان اس بت میں لگی رہتی ہے
اپنے کو پاتے ہیں بے گانے میں
سنگِ در تک تِرے جب سر پہنچا
لاکھ سجدے کئے شکرانے میں
نہیں معلوم گیا کس جانب؟
دل لگا ہے تِرے دیوانے میں
قصۂ حضرت یوسف نہ سنو
طرفہ عبرت ہے اس افسانے میں
اس طرح دل میں ہے آہوں کا دھواں
جیسے خاک اڑتی ہے ویرانے میں
برکت کس کے قدم کی ہے رشید
کہ اذاں ہوتی ہے بت خانے میں
رشید لکھنوی
No comments:
Post a Comment