مسکرانے میں دن گزرتا ہے
غم چھپانے میں دن گزرتا ہے
آپ کا کیا ہے آپ کا اکثر
دل دکھانے میں دن گزرتا ہے
یاد آئے تو ان کے کوچے میں
آنے جانے میں دن گزرتا ہے
آج بھی مے کدے میں ساقی کا
مے پلانے میں دن گزرتا ہے
روٹھ جاتا ہے ہم سے شافی جب
پھر منانے میں دن گزرتا ہے
محسن شافی
محمد محسن رضا
No comments:
Post a Comment