مختصر سی یہ خوشی ہے دوستو
حادثوں میں زندگی ہے دوستو
مشوروں سے کچھ نہیں ہو گا یہاں
فیصلے کی اب گھڑی ہے دوستو
دل کو پتھر سا بنا لینے کے بعد
آنکھ میں پھر بھی نمی ہے دوستو
جس کسی کا حوصلہ ہو سر بلند
اس کو منزل مل گئی ہے دوستو
درد کے ساگر میں بھی رہ کر جیا
کیسا اصغر آدمی ہے دوستو
اصغر شمیم
No comments:
Post a Comment