Tuesday, 20 April 2021

مختصر سی یہ خوشی ہے دوستو

 مختصر سی یہ خوشی ہے دوستو​

حادثوں میں زندگی ہے دوستو​

مشوروں سے کچھ نہیں ہو گا یہاں​

فیصلے کی اب گھڑی ہے دوستو​

دل کو پتھر سا بنا لینے کے بعد​

آنکھ میں پھر بھی نمی ہے دوستو

​جس کسی کا حوصلہ ہو سر بلند​

اس کو منزل مل گئی ہے دوستو​

درد کے ساگر میں بھی رہ کر جیا​

کیسا اصغر آدمی ہے دوستو​


اصغر شمیم

No comments:

Post a Comment