Tuesday, 20 April 2021

اے خدا زندگی کی سلگتی صداؤں سے مجھ کو بچا

زندہ رہنے کا اسمِ اعظم


پھر صدا تنگ و تاریک غاروں سے اُبھری

تا بہ حدِ نظر

نیلگوں آسمانوں سے الجھی

پھر صداؤں کے بے نُور سے شامیانے

مقیّد فضاؤں کا حصہ بنے

اور بگولوں میں اُلجھا ہوا

زردیوں نے صداؤں کا پیچھا کیا

پھر صداؤں کے اندھے کنویں سے

زبانوں کے پُر شور رہٹوں کی اک اک کڑی سامنے آ گئی

تب کسی نے کہا؛

میں صدا کے سفر میں

منافع کا منشُور لے کر

تجارت کی منڈی میں میں اُترا

کسی کی صدا تھی

مجھے نیک و بد سے تعلّق نہیں

اب مِری جیب میں تو

چمکتے دمکتے خُداؤں کا ڈیرا

کسی نے کہا؛

ہے بھیانک سفر موت سا

سنسناتی ہوئی خامشی زاد راہ

غمزدہ ادھر مِرے ہمسفر

میں خُدا کی بھلائی کو نِکلا ہوں، لیکن

مِرے ہاتھ میں زندگی کی سِمٹتی لکیریں

سیاہی میں لِپٹا ہُوا

خُون آشام خواہش کا سنگِ گِراں

راستے وحشتیں

زرد وِیران چہرے

پھرتی ہوئی سرد آنکھیں

جو پل پل اُبھرتی

تمنّاؤں کا جسم نوچیں

تو اک شورِ بے ربط اُبھرے

صدا بے نوا آج کا ایلیا

اے خدا، اے خدا  

مجھ کو آرام دے

زندگی کی سُلگتی صداؤں سے مجھ کو بچا


اعجاز راہی​

No comments:

Post a Comment