Tuesday, 20 April 2021

دشت تنہائی بادل ہوا اور میں

 دشتِ تنہائی، بادل، ہوا اور میں

روز و شب کا یہی سلسلہ اور میں

اجنبی راستوں پر بھٹکتے رہے

آرزوؤں کا اک قافلہ اور میں

دونوں ان کی توجہ کے حقدار ہیں

مجھ پہ گزرا تھا جو سانحہ اور میں

سیکڑوں غم مِرے ساتھ چلتے رہے

جس کو چھوڑا اسی نے کہا اور میں

روشنی، آگہی، اور زندہ دلی

اِن حریفوں سے تھا واسطہ اور میں

دیر تک مِل کے روتے رہے راہ میں

ان سے بڑھتا ہوا فاصلہ اور میں

جب بھی سوچا تو بس سوچتا رہ گیا

زندگانی! تِرا مرحلہ اور میں

طنز، دشنام، لعنت، عداوت، حسد

ان رفیقوں کا سایہ رہا اور میں


تابش مہدی

No comments:

Post a Comment